نیویارک ،27/جون (آئی این ایس انڈیا) کرونا وائرس صحت کے کتنے مسائل کا سبب بن رہا ہے، سائنس دانوں کو اب تھوڑا سا اندازہ ہونا شروع ہوا ہے۔ وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق مریضوں اور صحت کے ںظام پر ان مسائل کے اثرات برسوں برقرار رہ سکتے ہیں۔
اب تک عام خیال یہ تھا کی کرونا وائرس سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے لیکن اب ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ یہ پھیپھڑوں کے علاوہ دوسرے اعضا کو بھی متاثر کرتا ہے اور انھیں ناکارہ بنادیتا ہے۔
ڈاکٹر ایرک ٹوپول کیلی فورنیا کے اسکرپس ریسرچ ٹرانسلیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسے صرف سانس کا وائرس سمجھتے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ لبلبے پر بھی حملہ کرتا ہے۔ دل کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ جگر، گردوں اور دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ابتدا میں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا۔
سانس لینے میں مشکلات کے علاوہ کرونا وائرس کے مریضوں کا خون گاڑھا ہوجاتا ہے جس سے اسٹروک ہوسکتا ہے اور شدید سوزش کی وجہ سے کئی اعضا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ وائرس سے دماغی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں جن میں سردرد، چکر آنا، الجھن کی کیفیت اور سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونے کے علاوہ دماغی دورے بھی پڑسکتے ہیں۔
ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ ان مسائل سے صحت یابی سست، نامکمل اور مہنگی ثابت ہوسکتی ہے اور زندگی کے معیار پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
شکاگو میں نارتھ ویسٹرن میڈیسن اسپتال کی ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ کرونا وائرس کے وسیع اور متنوع اثرات انوکھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دل کے مریضوں کو انفلوئنزا ہوجائے تو پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اس کرونا وائرس میں حیران کن بات پھیپھڑوں کے علاوہ سامنے آنے والی بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔